اشاعتیں

Navdeep Wadali Chamakte Chand Ko Ghazal by Ghulam Ali

تصویر
Navdeep Wadali Chamakte Chand Ko Ghazal by Ghulam Ali      چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارا بنا ڈالا مری آورگی نے مجھ کو آوارہ بنا ڈالا بڑا دلکش، بڑا رنگین ہے یہ شہر کہتے ہیں یہاں پر ہیں ہزاروں گھر، گھروں میں لوگ رہتے مجھے اس شہر میں گلیوں کا بنجارہ بنا ڈالا میں اس دنیا کو اکثر دیکھ کر حیران ہوتا ہوں نہ مجھ سے بن سکا چھوٹا سا گھر دن رات روتا ہوں خدایا تونے کیسے یہ جہاں سارا بنا ڈالا مرے مالک مرا دل کیوں تڑپتا ہے، سلگتا ہے تری مرضی، تری مرضی پہ کس کا زور چلتا ہے کسی کو گل کسی کو تو نے انگارہ بنا ڈالا یہی آغاز تھا میرا، یہی انجام ہونا تھا مجھے برباد ہونا تھا، مجھے ناکام ہونا تھا مجھے تقدیر نے تقدیر کا مارا بنا ڈالا چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارا بنا ڈالا مری آورگی نے مجھ کو آوارہ بنا ڈالا

RAT BHAR MUJH KO GHAM E YAR NE BAHADUR SHAH ZAFAR

تصویر
 RAT BHAR MUJH KO GHAM E YAR NE BAHADUR SHAH ZAFAR       رات بھر مجھ کو غمِ یار نے سونے نہ دیا صبح کو خوفِ شبِ تار نے سونے نہ دیا   شمع کی طرح مجھے رات کٹی سولی پر چین سے یادِ قدِ یار نے سونے نہ دیا   اے دل آزار تو سویا کیا آرام سے رات مجھے پل بھر بھی دلِ زار نے سونے نہ دیا   میں وہ مجنوں ہوں کہ زنداں میں نگہبانوں کو میری زنجیر کی جھنکار نے سونے نہ دیا   یاس و غم رنج و الم میرے ہوئے دشمن جاں اے ظفر شب کو انہیں چار نے سونے نہ دیا   بہادر شاہ ظفر    

heirat e ishq bata samne kon aya ha حیرت عشق بتا سامنے کون آیا ہے

تصویر
حیرت عشق بتا سامنے کون آیا ہے کام کیوں بھول گئی جنبش مژگاں اپنا