اشاعتیں

ساغر صدیقی لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تیری نظر کا رنگ بہاروں نے لے لیا - ساغر صدیقی

تصویر
تیری نظر کا رنگ بہاروں نے لے لیا افسردگی کا روپ ترانوں نے لے لیا جس کو بھری بہار میں غنچے نہ کہہ سکے وہ واقعہ بھی میرے فسانوں نے لے لیا شاید ملے گا قریۂ مہتاب میں سکوں اہل خرد کو ایسے گمانوں نے لے لیا یزداں سے بچ رہا تھا جلالت کا ایک لفظ اس کو حرم کے شوخ بیانوں نے لے لیا تیری ادا سے ہو نہ سکا جس کا فیصلہ وہ زندگی کا راز نشانوں نے لے لیا افسانۂ حیات کی تکمیل ہو گئی اپنوں نے لے لیا کہ بیگانوں نے لے گیا بھولی نہیں وہ قوس قزح کی سی صورتیں ساغرؔ تمہیں تو مست دھیانوں نے لے لیا Saghir Siddiqui ساغر صدیقی

Rakhte hain ju auron k leye pyar ka jazaba

تصویر

ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں - ساغر صدیقی

تصویر
  ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں میرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں میں نے پلکوں سے در یار پہ دستک دی ہے میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں میں نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو ہم سے کہتے ہیں وہی عہد وفا یاد نہیں کیسے بھر آئیں سر شام کسی کی آنکھیں کیسے تھرائی چراغوں کی ضیا یاد نہیں صرف دھندلائے ستاروں کی چمک دیکھی ہے کب ہوا کون ہوا کس سے خفا یاد نہیں زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں آؤ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں میرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں میں نے پلکوں سے در یار پہ دستک دی ہے میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں میں نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو ہم سے کہتے ہیں وہی عہد وفا یاد نہیں کیسے بھر آئیں سر شام کسی کی آنکھیں کیسے تھرائی چراغوں کی ضیا یاد نہیں صرف دھندلائے ستاروں کی چمک دیکھی ہے کب ہوا کون ہوا کس سے خفا یاد نہیں زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے جانے کس جرم کی پائی ہے سز...