اشاعتیں

PREM KUMAR NAZAR لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

آنے والا انقلاب آیا نہیں

آنے والا انقلاب آیا نہیں کیا کوئی اہل کتاب آیا نہیں اسم اعظم بھی پڑھا ہے بار بار غار سے لیکن جواب آیا نہیں ہو رہا ہے کچھ نہ کچھ زیر زمیں کونپلیں پھوٹیں گلاب آیا نہیں رات بھر پھر ہجر کا موسم رہا جس کو آنا تھا وہ خواب آیا نہیں خشک لب لوٹے ہیں کیوں صحرا نورد راستے میں کیا سراب آیا نہیں مجھ کو اک چشمک تھی سیل اشک سے اس لیے میں زیر آب آیا نہیں