اشاعتیں

لب شاعری لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا - پروین شاکر

تصویر

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں - شبینہ ادیب

تصویر

عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو- احمد فراز

احمد فراز عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو باؤلے ہو جاؤ گے مہتاب مت دیکھا کرو جستہ جستہ پڑھ لیا کرنا مضامین وفا پر کتاب عشق کا ہر باب مت دیکھا کرو اس تماشے میں الٹ جاتی ہیں اکثر کشتیاں ڈوبنے والوں کو زیر آب مت دیکھا کرو مے کدے میں کیا تکلف مے کشی میں کیا حجاب بزم ساقی میں ادب آداب مت دیکھا کرو ہم سے درویشوں کے گھر آؤ تو یاروں کی طرح ہر جگہ خس خانہ و برفاب مت دیکھا کرو مانگے تانگے کی قبائیں دیر تک رہتی نہیں یار لوگوں کے لقب القاب مت دیکھا کرو تشنگی میں لب بھگو لینا بھی کافی ہے فرازؔ جام میں صہبا ہے یا زہراب مت دیکھا کرو احمد فراز Ahmad Fraz

گلے شکوے ہی کر ڈالو کی کچھ وقت کٹ جائے

تصویر

وہ عکس بن کے مری چشم تر میں رہتا ہے - بسملؔ صابری

تصویر

اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا - نوشی گیلانی

تصویر

شوق وصال ہے یہاں، لب ہر سوال ہے یہاں

تصویر

دلوں میں دشمنوں کے اس طرح ڈر بول اٹھتے ہیں - حیدر قریشی

تصویر