اشاعتیں

Perveen Shakr Poetry لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کو با کو پھیل گئی بات سناسائی کی - پروین شاکر

تصویر
کو با کو پھیل گئی بات سناسائی کی اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی ku ba ku pherl gai bat shanasai ki us ne khushbo ki terha meri pazerai ki Perveen Shakir Best Urdu Ghazal urdu poetry on love, urdu poetry about life , urdu poetry sms ,urdu poetry with english translation , urdu poetry in english , urdu poetry in hindi, urdu poetry on eyes, urdu poetry about love, urdu poetry about other, urdu poetry about eyes, urdu poetry about rain, urdu poetry allama iqbal ,urdu poetry ahmed faraz, an urdu poetry of allama iqbal, urdu poetry by parveen shakir, urdu poetry books pdf, urdu poetry best, urdu poetry bewafa, urdu poetry by ghalib, urdu poetry by iqbal, urdu poetry barish, urdu poetry by wasi shah, urdu poetry by jaun elia, f.b urdu poetry , urdu poetry competition 2018, urdu poetry captions, urdu poetry collection, urdu poetry copy paste, urdu poetry

Perveen Shakir Chalne ka howsla nahi

تصویر
چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کردیا ملتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی اس نے مگر بچھڑتے وقت اور سوال کردیا اے میری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی اہل کتاب نے مگر کیا تیرا حال کردیا اب کے ہوا کے ساتھ ہے دامن یار منتظر بانوے شب کے ہاتھ پر رکھنا سنبھال کر دیا ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کردیا میرے لبوں پہ مہر تھی پر میرے شیشہ رو نے تو شہر کے شہر کو میرا واقف حال کردیا چہرہ و نام ایک ساتھ اج نہ یاد آسکے وقت نے کس شبیہہ کو خواب و خیال کردیا مدتو بعد اس نے آج اس نے کوئی گلہ کیا منصبِ دلبری پہ کیا مجھ کو بحال کردیا پروین شاکر Perveen Shakir  Chalne ka howsla nahi, rukna muhal ker dia

میں اپنی دوستی کو شہر میں رسواء نہیں کرتی

تصویر
Perveen Shakir میں اپنی دوستی کو شہر میں رسواء نہیں کرتی  محبت میں بھی کرتی ہوں مگر چرچا نہیں کرتی جو مجھ سے ملنے آ جائے میں اس کی دِل سے خادم ہوں جو اٹھ کے جانا چاھے میں اسے روکا نہیں کرتی جسے میں چھوڑ دیتی ہوں اسے پِھر بھول جاتی بوں پِھر اس ہستی کی جانب میں کبھی دیکھا نبیں کرتی تیرا اصرار سر آنكھوں پہ کے تم کو بھول جاؤں میں میں کوشش کر کے دیکھوں گی مگر وعدہ نہیں کرتی Perveen Shakir

ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئے

تصویر
Perveen Shakir ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئے میں جانتی تھی پال رہی ہوں سنپولیے بس یہ ہوا کہ اس نے تکلف سے بات کی اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بھگو لیے پلکوں پہ کچی نیندوں کا رس پھیلتا ہو جب ایسے میں آنکھ دھوپ کے رخ کیسے کھولیے تیری برہنہ پائی کے دکھ بانٹتے ہوئے ہم نے خود اپنے پاؤں میں کانٹے چبھو لیے میں تیرا نام لے کے تذبذب میں پڑ گئی سب لوگ اپنے اپنے عزیزوں کو رو لیے خوش بو کہیں نہ جائے پہ اصرار ہے بہت اور یہ بھی آرزو کہ ذرا زلف کھولیے تصویر جب نئی ہے نیا کینوس بھی ہے پھر طشتری میں رنگ پرانے نہ گھولی ے

وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا Perveen Shakir

تصویر
Perveen Shakir وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا تری جدائی میں کس طرح صبر آ جاتا فصیلیں توڑ نہ دیتے جو اب کے اہل قفس تو اور طرح کا اعلان جبر آ جاتا وہ فاصلہ تھا دعا اور مستجابی میں کہ دھوپ مانگنے جاتے تو ابر آ جاتا وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیا برابری کا بھی ہوتا تو صبر آ جاتا وزیر و شاہ بھی خس خانوں سے نکل آتے اگر گمان میں انگار قبر آ جاتا Perveen Shakir Ghazal