Wednesday, 11 January 2017

تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤگے


تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤگے



تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤگے
ان کہی بات کو سمجھوگے تو یاد آؤں گا

ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے
صفحۂ زیست کو پلٹو گے تو یاد آؤں گا

اس جدائی میں تم اندر سے بکھر جاؤگے
کسی معذور کو دیکھوگے تو یاد آؤں گا

اسی انداز میں ہوتے تھے مخاطب مجھ سے
خط کسی اور کو لکھو گے تو یاد آؤں گا

میری خوشبو تمہیں کھولے گی گلابوں کی طرح
تم اگر خود سے نہ بولو گے تو یاد آؤں گا

آج تو محفل یاراں پہ ہو مغرور بہت
جب کبھی ٹوٹ کے بکھرو گے تو یاد آؤں گا

وصی شاہ